29 جولائی 2012 - 19:30

افغانستان کےدارالحکومت کابل میں امریکی سفیر رایان کراکرنے خبردارکیاہےکہ وہ امریکہ کی حقیقی صلاحیتوں کوپہچانےاورماضی سےعبرت حاصل کرے۔

ابنا: امریکی اخبارنیویارک ٹائمز کےمطابق افغانستان میں امریکی سفیررایان کراکرنےجوریٹائرمنٹ لینےوالےہیں اورعراق اورافغانستان میں امریکی جنگوں سے جڑے رہے ہیں، امریکی سیاستدانوں اورسربراہوں کوخبردارکیاہےکہ وہ اپنےماضی سےعبرت حاصل کریں ۔اس امریکی اخبارکےمطابق رایان کراکرنےاعلان کیاہےکہ آئندہ برسوں میں ہم عالمی سطح پر تشویشناک صورت حال دیکھ رہے ہیں جو امریکہ کی پیچیدہ ترین اسٹریٹیجی کوبھی ناکام بنادےگی ۔رایان کراکرنے ایک ملک کی سرزمین کوایسےاغیار سےتعبیرکیاجومیزبانوں کےلئےکوئی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ نفرت کی لہرپیداکرتی ہے۔کراکر نے امریکہ کےسیاسی اورفوجی حکام کوخطاب کرتےہوئےیہ بھی کہاکہ اس ملک کی فوجی اورتسلط پسند پالیسیاں افغانستان اورعراق میں بھی ناکام رہیں اور امریکی فوجی ہولناک دلدل میں پھنس گئےہيں۔ امریکی فوجی کےاسپیشل آپریشنل کمانڈر جنرل ویلیم مک راون نےتاکیدکےساتھ کہاکہ انھیں یقین نہيں کہ سن دوہزارچودہ کےبعد تمام امریکی فوجی افغانستان سےباہرنکل جائيں گے۔ امریکہ کےخصوصی آ پریشنل کمانڈر ویلیم مک راون نے اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ  امریکی فوجیوں پردباؤ اوراسٹریس ہے، بعض فوجیوں کی خودکشی کی وجہ ان کےبرےتعلقات اورمنشیات وشراب کوقراردیا۔افغانستان پرقبضےکوایک عشرےسےزیادہ کاعرصہ گذرنےکےباوجود نہ صرف یہ کہ افغانستان میں خونی تشدد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ امریکی فوج ایسےدلدل میں پھنس گئی ہے جس کےنتیجےمیں اسے بھاری جانی اورمالی نقصانات برداشت کرتےہوئے امریکی تاریخ کی سب سےطویل جنگ کاسامنا ہے۔نیٹوکوافغان جنگ میں داخل کرنےکی وجہ سےبھی یہ ادارہ یورپ سےباہر اپنی پہلی جنگ ہار رہا ہے یہاں تک کہ مغربی حلقے افغانستان پرقبضہ کرنے اور اس کےنتائج کےبارےمیں بارہا خبردارکرتےرہے ہيں لیکن امریکہ نےافغانستان پرقبضہ جاری رکھنےاوراس ملک کواس علاقےمیں اپنے اڈےمیں تبدیل کرنےکےلئےطویل مدت منصوبے تیارکررکھےہیں جوافغانستان میں امریکی سفیرکراکرکےمطابق اس ملک کےحقائق سےمیل نہيں کھاتےکیونکہ ایک طرف افغانستان کےعوام کسی بھی طرح اپنےملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی نہيں چاہتےاورامریکیوں کواپنادشمن سمجھتےہيں اور دوسری جانب افغانستان میں تشدد اوربحران کاسلسلہ جاری رہنےسے پتہ چلتاہےکہ افغانستان کےبحران کا حل فوجی نہيں ہے بلکہ اس کاراہ حل اس ملک کے امور افغان حکومت کےسپرد کرکے اورقومی آشتی کےتناظرمیں ہی ممکن ہے۔

.......

/169